62

چشمے والا آور بوڑھی عورت۔ اردو مزاحیہ کہانی

ایک گاوں میں امجد نامی شخص نے کمزور نظر کے چشمے کی دکان بنائی۔ امجد نے یہ دکان گاوں میں یہ سوچ کر بنائی، کہ شہر میں جگہ جگہ چشمے والی دکانیں ہیں۔ اسی لیے اگر گاوں میں دکان بنائی جائے تو بہتر کمائی ہو گی۔خیر امجد نے آپنی دکان میں ہر نمبر کا چشمہ رکھا تھا۔

کچھ دن گزرنے کے باوجود اس کی دکان پر کوئی گاہک نہ آیا۔ تو امجد پریشان ہو گیا۔ اب وہ گاوں میں پھرتا رہتا اور لوگوں سے پوچھتا کہ انہیں پڑھنے یا دیکھنے میں کوئی پریشانی تو نہیں ہوتی۔ اگر کوئی کہتا کہ اسے پڑھنے میں دشواری ہوتی ہیں۔ تو امجد اسے دکان پر آنے کا کہتا۔

آگلے دن صبح صبح ایک بوڑھی عورت اس کی دکان پر آئی۔ امجد آپنے پہلے گاہک کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ بوڑھی عورت نے اسے بولا کہ بیٹا مجھے کوئی عینک دو تاکہ میں پڑھ سکوں۔ امجد نے بوڑھی عورت کی انکھیں چیک کی، اور اسے ایک عینک لگا دی۔ اور پھر ایک بورڈ کے سامنے بیٹھا کے پوچھا، ماں جی زرا سامنے بورڈ پر دیکھ کے بتاو کیا لکھا ہے۔

بوڑھی عورت بولی بیٹا مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ کیا لکھا ہیں۔ امجد باری باری لینز تبدیل کرتا رہا، اور بوڑھی عورت سے پوچھتا رہا کہ بورڈ پر کیا لکھا ہے۔ لیکن بوڑھی عورت کا ایک ہی جواب تھا، بیٹا مجھے نہیں پتا کیا لکھا ہے۔ امجد پریشان ہو گیا کہ اخر اس بوڑھی عورت کو کونسا نمبر لگے گا۔ خیر اس نے عورت سے کہا کہ، ماں جی آپ جاو اور کل آنا۔ بوڑھی عورت بولی ٹھیک ہیں بیٹا لیکن کیا میں پڑھ پاوں گی نا۔ امجد بو بلکل ماں جی آپ ضرور پڑھ سکیں گی۔ بوڑھی عورت کے جانے کے بعد، امجد شہر گیا اور وہاں سےبہترین سے بہترین لینز لے ایا۔

آگلے دن بوڑھی عورت دکان پر آئی تو امجد نے وہ تمام والے لینز لگا کے وہی سوال پوچھا۔ لیکن اس بار بھی بوڑھی عورت کا ایک ہی جواب تھا کہ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ کیا لکھا ہیں۔ امجد نے تنگ آکے کہا، ماں جی مجھے معاف کریں آور آپ جائیں۔ میرے بس میں نہیں ہے آپ کا علاج کرنا۔ بوڑھی عورت بولی بیٹا پریشان مت ہو۔ اگر میرے ماسٹر جی کے بس میں نہیں تھا کہ میں پڑھ سکوں تو آپ کی عینک مجھے کہا پڑھا سکتی ہے۔امجد بوڑھی کی بات سن کے آپنے ماتھے کو پیٹنے لگا۔

اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں