37

بادشاہ اور معصوم طوطا سبق آموز اُردو کہانی

بادشاہ اور اس کا طوطا

 

یہ کہانی ایک بادشاہ اور اُس کے طوطے کی ہیں۔ کسی زمانے میں ایک بادشاہ تھا۔ جو کہ آپنے عدل و انصاف کی وجہ سے بہت مشہور تھا۔ اسی وجہ سے اس کی رعایا بھی اس سے بہت خوش تھی۔ اس بادشاہ کے پاس ایک بہت ذہین اور وفادار طوطا تھا۔

بادشاہ اور معصوم طوطا

 

ایک دن طوطے نے بادشاہ کو کہا، بادشاہ سلامت اگر آپ کی اجازت ہو تو میں آپنے والدین سے ملنے جنگل چلا جاوں۔ بادشاہ نے طوطے کو اجازت دیتے ہوئے کہا کہ آپ آپنے والدین کو ملنے جا سکتے ہو، لیکن ایک شرط پہ آپ کو 5 دن تک واپس آنا ہو گا۔ طوطے نے واپسی کا وعدہ کیا اور جنگل کی طرف اُڑنے لگا۔

طوطا بہت خوش تھا۔ وہ آپنے گھر والو سے ملا ۔ اب طوطے کے وعدہ کے مطابق 5 دن پورے ہو گے تھے۔ اب طوطے کو واپس بادشاہ کے پاس جانا تھا۔ طوطا آپنے گھر والوں سے مل کو محل کی طرف اُڑا رستے میں اُسے خیال آیا کہ بادشاہ کےلیے کوئی تحفہ لے جانا چاہیے۔ طوطے کو جنگل سے گزرتے ہوئے ایک درخت نظر آیا، جس کا پھل کھانے سے بوڑھا جوان ہو جاتا ہے۔ اور اسے کبھی موت نہیں آتی۔ طوطے نے وہ پھل بادشاہ کےلیے توڑ لیا۔

بادشاہ اور طوطا سبق آموز کہانی

 

طوطے کو اُڑتے کافی ٹائم ہو گیا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ تھک چکا تھا۔اسی لیے اس نے سوچا کہ کچھ دیر آرام کر نے کے بعد آگے کا سفر کرو گا۔ طوطا ایک سائے دار  درخت کے نیچے آرام کرنے لگا۔ تھکاوٹ کی وجہ سے طوطے کی انکھ لگ گی۔ اور وہ سُو گیا۔ اچانک کئی سے زہریلا سانپ وہاں آگیا اور طوطے کے پاس پڑے پھل کو تھوڑا سا کھا کے زہریلا کر دیا۔

بادشاہ اور معصوم طوطا سبق آموز کہانی

جب طوطےکی انکھ کھلی تو اس نے پھل لیا اور اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گیا۔ طوطے کو اس بات کا بلکل علم نہیں تھا کہ پھل زہریلا ہو چکا ہے۔ جب طوطا محل میں پہنچا تو اس نے پھل بادشاہ سلامت کی خدمت میں پیش کیا۔

 Urdu Stories Urdutaleem.com

 

بادشاہ کے وزیر نے بادشاہ کو کہا کہ بادشاہ سلامت پھل کھانے سے پہلے چیک کر لینا چاہیے، کہیں آپ کی صحت کےلیے نقصان دہ نہ ہو۔ بادشاہ نے پھل کا تھوڑا حصہ کاٹ کر کہا کہ یہ کتے کو کھلا دو۔ کتے نے جیسے ہی پھل کا ٹکڑہ کھایا وہ تڑپ تڑپ کے مر گیا۔ جب بادشاہ نے یہ سب آپنی آنکھوں سے دیکھا تو اسے بہت غصہ آیا۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ طوطے کا سر قلم کر دیا جائے، اس نے بادشاہ کو مارنے کی کوشیش کی ہیں۔ چنانچہ بادشاہ کے حکم سے طوطے کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔

بادشاہ نے باقی کا بچا ہوا پھل پھینک دیا۔ یہ پھل کسی کرشمہ سے کم نہیں تھا۔ کیونکہ بادشاہ نے پھل کا ٹکڑہ جس جگہ پھینکا تھا، چند دن بعد اسی جگہ پہ اس پھل کا درخت اگ گیا۔ اور کچھ ہی عرصہ میں اس درخت نے پھل دینا شروع کردیا۔ بادشاہ نے اپنی ریاست میں نصیحت کر رکھی تھی کہ کوئی بھی اس درخت کا پھل نہیں کھاے گا۔

ایک دن اچانک اس جگہ سے کسی بوڑھے مسافر کا گزر ہوا۔ وہ آرام کی غرض سے اس درخت کے نیچے آرام کےلیے بیٹھ گیا۔ اسے اس درخت کی کہانی کے بارے میں معلوم نہیں تھا۔ چنانچہ بھوک لگنے پر بوڑاھے نے اس درخت سے پھل توڑ کر کھا لیا۔ جیسے ہی بوڑھے نے پھل کھایا، وہ دیکھتے ہی دیکھتے جوان ہو گیا۔ جب یہ بات بادشاہ تک پہنچی تو بادشاہ نے پھل پر ریسچ کروائی جس سے پتا چلا کہ یہ پھل کھانے سے بوڑھے جوان ہو جاتے ہیں اور کبھی موت نہیں آتی۔ یہ سُن کے بادشاہ پچھتانے لگا کہ اس نے بے علمی میں آپنے وفادار طوطے کو مروا دیا۔ لیکن آبھی کیا ہو سکتا تھا۔

اس کہانی سے سبق ملتا ہے کہ

 

انجانے میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ کہی ایسا نہ ہو کہ آپ کے انجانے میں کیے گے فیصلہ سے کسی بےگناہ کی جان چلی جائے۔ اسی لیے چاہیے کہ جب بھی کوئی خبر سنتے ہو، تو کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے وضاحت کر لینی چاہیے۔ کہ اس بات میں کتنی سچائی  ہے۔ ہمارے ہاں اکثر یہ دیکھنے کو ملتا ہے، کہ ہمیں کوئی آکر کہ دیتا ہے کہ فلاں شخص آپ کے بارے میں یہ بات کہ رہا ہے۔ ہم بات کی تصدیق کیے بغیر اپس میں لڑائی شروع کر دیتے ہیں۔ اور یہ لڑائیہ خاندانی دشمنی کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔جس کی وجہ سے دونوں خاندانوں کا نقصان ہو جاتا ہیں۔

میں اُمید کرتا ہوں کہ آج کی اس چھوٹی سی کہانی پہ آپ عمل کریں گے۔ اس سے آپ بہت بڑے نقصان سے بچ سکتے ہیں

 

Story Pasand ay To Comments Lazmi Karna

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں