سبق آمُوز کہانیاں

اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیا چگ گی کھیت

اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گی کھیت

پرانے زمانے میں وئیاپار بنجارے کیا کرتے تھے. یہ کہانی بھی ایک بنجارے کی ہے جو وپار کیا کرتا تھا. وہ آپنے گاوں کا سامان شہر لے جا کر بیچتا اور وہاں سے مصالحہ جات اور باقی ضرورت کی اشیاء لایا کرتا تھا

اس بنجارے کی تجارت لاکھوں میں تھی اسی لیے اسے لاکھا بنجارا کے نام سے سب بلاتے تھے اس بنجارے کے پاس ایک کتا تھا جو کہ بڑا ہی وفادار تھا دن کو جب بنجارا سامان شہر لے کر جاتا تو کتا بھی ساتھ جاتا اور رات کو جب بنجارا سو جاتا تو کتا اس کے سامان کی رکھوالی کرتا

ایک دفعہ بنجارے کو تجارت میں بہت زیادہ نقصان ہو گیا اب اس کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ مزید تجارت کر سکتا بنجارا قافی پریشان تھا

اسی گاوں میں ایک سیٹھ تھا جو لوگوں کو اُدھار پر پیسے دیتا تھا بنجارا بھی اسی کے پاس گیا اور کہا کہ اسے کچھ پیسے چاہیے تاکہ وہ اپنا کاروبار چلا سکے

سیٹھ نے بنجارے کو کہا کہ پیسے تو میں آپ کو دے دوں گا لیکن اس کے بدلے میں آپ کو کوئی چیز میرے پاس زمانت کے طور پر رکھنی ہو گی کیا پتہ آپ میرے پیسے واپس کر پاو گے یا نہیں

بنجارا یہ سن کے پریشان ہو گیا کیونکہ اس کے پاس زمانت کے طور پر رکھنے کےلیے کچھ بھی نہیں تھا

اس نے سیٹھ کو بتایا کہ اسے تجارت میں بہت نقصان ہوا ہے اب اس کے پاس زمانت کے طور پر رکھنے کےلیے کچھ نہیں بچا

سیٹھ نے اس کے کتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنا کتا مجھے دے جاو جب میرے پیسے واپس کیے تو اپنا کتا لے جانا یہ سن کے بنجارا بہت پریشان ہوا لیکن اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی دوسرہ راستہ بھی تو نہیں تھا اخر کار اس نے آپنا کتا زمانت کے طور پر سیٹھ کے حوالے کر دیا اور پیسے لے کر چلا گیا

کچھ دنوں بعد سیٹھ کے گھر میں چور گھسے اور اس کا سارا پیسہ اور زیورات لوٹ لیے چور یہ سارا سامان لوٹ کر جنگل کی طرف چل پڑے کتا بھی ان چوروں کا پیچھا کرتا رہا

چوروں نے لوٹا ہوا سارا پیسہ جنگل میں ایک گڑھا کھودا اور اس میں چھپا دیا اور وہاں سے چلے گے

کتا گھر واپس آکر سیٹھ کی چارپائی کے پاس جا کر بھونکنے لگا جس سے سیٹھ بھی اٹھ گیا جب سیٹھ نے اپنے گھر کا حال دیکھا کہ ہر چیز الٹ پلٹ ہے تو اسے بھی احساس ہو چکا تھا کہ چور اس کی ساری جمہ پونجی لوٹ کر لے گے ہیں

سیٹھ یہ دیکھ کے بہت پریشان ہو گیا اور رونے لگا اتنے میں کتا سیٹھ کی دھوتی کو پکڑ کر کینچنے لگا

آب کتا سیٹھ کو جنگل میں اس جگہ لے گیا جہاں جوروں نے سامان چھپایا تھا وہاں پہنچ کر کتا اپنے پاوں سے زمیں کو رگڑنے لگا جب تھوڑی سی مٹی ہٹی تو نیچے سے سارا سامان نظر انے لگا یہ دیکھ کر سیٹھ کی خوشی کی انتہا نہ رہی اس نے کتے کو پیار سے اٹھا کر سہلانے لگا

گھر واپس آ کر سیٹھ نے ایک چٹھی لکھی اور کتے کے گلے میں لٹکا دی اور کتے کو کہا کہ اب اپ ازاد ہو اپ اپنے مالک کے پاس جا سکتے ہو کتا خوشی سے بھاگتا ہوا اپنے مالک کے گھر کی طرف دوڑنے لگا

دوسری طرف بنجارے کو بھی تجارت میں بہت منافع ہوا تھا وہ اسی راستے سے سیٹھ کے پیسے واپس کرنے آ رہا تھا تاکہ اپنا کتا واپس لے جا سکے لیکن جب بنجارے نے راستے میں اپنے کتے کو دیکھا تو پریشان ہو گیا وہ سمجھا کہ کتا وہاں سے بھاگ ایا ہے اور اس کی زبان کی لاج نہیں رکھی

بنجارے کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی اس نے نا او دیکھا نہ تاو اور لکڑی کتے کے سر میں مار دی جس کی وجہ سے کتا مر گیا

پھر اچانک بنجارے کی نظر اس چٹھی پر پڑھی جو کتے کے گلے میں تھی اس نے جب چٹھی کھول کر دیکھا تو اس میں سیٹھ نے لکھا تھا کہ آج اپ کے کتے نے میرے تمام پیسے سود سمیت مجھے لوٹا دیے ہے اسی لیے میں اسے آزاد کرتا ہوں

آس کے بعد بنجارا کتے کے اوپر لیٹ کر زور زور سے چلانے لگا کہ یہ میں نے کیا کر دیا

لیکن اب کیا ہوت جب چڑیاں چگ گی دانہ

اسی لیے دوستوں جب بھی کوئی فیصلہ لیتے ہو تو سوچ سمجھ کر لو ایسا نہ ہو کہ آپ بھی جلد بازی میں کوئی بڑا نقصان کر بیٹھو

Leave a Comment

Translate »