آیک مسلمان اور ہندو کی کہانی

مسلمان اور ہندو کی کہانی

ایک دفعہ ایک ہندو مسلمان کے پاس گیا اور کہا کہ اگر آپ میرے 3 سوالوں کا جواب دے دو تو میں مسلمان ہو جاوں گا۔

مسلمان مسکرایا اور کہا ٹھیک ہے پوچھوں آپ کیا پوچھنا چاہتے ہوں۔

ہندو نے کہا کہ میرا پہلا سوال یہ ہے کہ۔

جب سب کچھ اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے۔ تو آپ لوگ انسانوں کو اس کا ذمہ دار کیوں ٹھراتے ہو؟

سوال نمبر 2

جب شیطان اگ کا بنا ہوا ہے۔ تو اس پر اگ کیسے اثر کرے گی؟

ہندو نے کہا کہ میرا تیسرا اور آخری سوال یہ ہے۔

جب اللہ تعالی اپ کو نظر نہیں آتا تو آپ لوگ اللہ کو کیوں مانتے ہو؟

مسلمان نے جواب میں پاس پڑا مٹی کا ڈھیلا اُٹھا کر ہندو کو دے مارا۔

ہندو کو بہت غصہ آیا اور اس نے مسلمان کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔

عدالت نے مسلمان کو بلایا اور کہا کہ آپ نے ہندو کے جواب میں اسے مٹی کا ڈھیلا کیوں مارا۔

مسلمان نے کہا یہ اس کی تینوں سوالوں کا جواب ہے۔

عدالت نے پوچھا وہ کیسے تو اس نے جواب دیا۔۔۔۔۔۔۔

پہلے سوال کا جواب یہ ہے۔

کہ یہ مٹی کا ڈھیلا میں نے اسے اللہ کی مرضی سے مارا تو یہ مجھے کیوں ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے۔

دوسرے سوال کا جواب یہ ہے۔

جب انسان مٹی کا بنا ہوا ہے تو مٹی کا ڈھیلا اس پر کیسے اثر کر سکتا ہے۔

تیسرے سوال کا جواب یہ ہے ۔ جب درد نظر نہیں آتا تو اسے محسوس کیسے ہوا۔

ہندو اپنے تینوں سوالوں کے جواب سن کر فوراً مسلمان ہو گیا۔

جو لوگ اللہ کی راہ میں نکل پڑتے ہیں اللہ ان میں یہ صلاحیت بھی پیدا کر دیتا ہے کہ کس موقع پر کیا بات کرنی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں